LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اثرانداز

News Image
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ خلیج میں سپلائی کے مسائل اور طوفان کے خدشات نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی اہم وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری جہازوں پر ہونے والے حملے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں سپلائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک کا اچھال ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستوں پر تجارتی جہازوں کو درپیش سکیورٹی خدشات نے بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے مبینہ طور پر کشیدگی میں اضافے اور حوثی باغیوں کی کارروائیوں نے تیل کی ترسیل کے روایتی راستوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف بحری جہازوں کی آمدورفت کو خطرے میں ڈالا ہے بلکہ عالمی سطح پر تیل کی پائیدار برآمدات کے حوالے سے بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال جلد کنٹرول میں نہ آئی تو توانائی کی سپلائی لائنز مزید متاثر ہو سکتی ہیں جس کے براہ راست اثرات عالمی معیشت پر پڑیں گے۔ امریکہ میں آنے والے ایک حالیہ طوفان اور اس کے نتیجے میں پیداوار کو درپیش ممکنہ خطرات نے بھی تیل کی قیمتوں کو اوپر جانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان تمام عوامل کے یکجا ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور توانائی کے شعبے میں منڈی کا رجحان مثبت سمت میں بڑھ رہا ہے۔ تجارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ جب تک مشرق وسطیٰ میں امن بحال نہیں ہوتا اور بحری راستے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتے، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو کا سلسلہ جاری رہے گا۔ حکومتیں اور توانائی کے ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے اور تیل کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دریں اثنا، صارفین اور صنعت کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کی نئی لہر کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ کے اخراجات میں اضافہ ہو جائے گا۔