LIVE
Loading Breaking News...

روپیہ میں گراوٹ اور بھارتی سینٹرل بینک کا دفاعی کردار

News Image
بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے جس کی وجہ سے ریزرو بینک آف انڈیا کو کرنسی کے دفاع کے لیے سخت اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں اور عالمی معاشی دباؤ اس گراوٹ کی اہم وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھارتی روپے کی قدر میں مسلسل کمی کا رجحان جاری ہے، جس نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے اختیار کی جانے والی دفاعی حکمت عملیوں کو کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ کرنسی مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق، روپے کی قدر میں حالیہ گراوٹ اتنی شدید ہے کہ یہ اپنی تاریخ کی کم ترین سطح کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھارتی مرکزی بینک کو مارکیٹ میں مداخلت کرنا پڑی تاکہ روپے کی گراوٹ کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک نے اوپن مارکیٹ میں مبینہ طور پر مداخلت کی ہے تاکہ روپے کو سہارا دیا جا سکے، تاہم دباؤ بدستور برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، روپے کی اس گراوٹ کی بڑی وجوہات میں بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور امریکی ڈالر کی مضبوطی شامل ہیں۔ جیسے ہی تیل کی درآمدات کے لیے ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے، بھارتی روپے پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ریزرو بینک آف انڈیا کی حالیہ مانیٹری پالیسی کے بعد بھی کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل دکھائی دے رہا ہے، جس کی وجہ سے روپے کو مزید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ کچھ سیشنز میں معمولی بہتری بھی دیکھی گئی ہے، لیکن مجموعی رجحان منفی زون میں ہی برقرار ہے۔ اس کڑے وقت میں معاشی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ آر بی آئی کے پاس اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو استعمال کرنے کے علاوہ محدود اختیارات بچ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کو نہ صرف درآمد کنندگان کی ڈالر کی مانگ کو پورا کرنا ہے بلکہ افراط زر پر قابو پانے کے لیے بھی توازن برقرار رکھنا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر عالمی عوامل بالخصوص توانائی کی قیمتیں اسی طرح بلند رہیں تو روپے کی یہ گراوٹ مزید گہرے معاشی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ حکومت اور مرکزی بینک اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ میں کسی بھی قسم کے بڑے پینک کو روکا جا سکے۔