AI
مصنوعی ذہانت دماغ پڑھنے لگی: سائنسدانوں نے حیرت انگیز اے آئی ٹیکنالوجی بنالی
سائنسدانوں نے ایک ایسا طاقتور مصنوعی ذہانت کا ماڈل تیار کیا ہے جو دماغی اسکینز کا تجزیہ کرکے یہ بتا سکتا ہے کہ انسان کیا دیکھ رہا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی دماغی سرگرمی کو تصاویر کی شکل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انتہائی حیرت انگیز اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سائنسدانوں نے ایک ایسا مصنوعی ذہانت (AI) کا ماڈل تیار کر لیا ہے جو انسانی دماغ کے اسکینز کو پڑھ کر بالکل وہی تصاویر دوبارہ تخلیق کر سکتا ہے جنہیں انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی نے سائنسی حلقوں میں ایک نئی بحث اور تجسس کو جنم دیا ہے کیونکہ یہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ممکن ہوا ہے کہ کوئی مشین براہ راست دماغی سرگرمی کو سمجھ کر بصری مناظر میں ڈھال سکے۔
مختلف تکنیکی رپورٹس کے مطابق، یہ نیا اے آئی سسٹم دماغی اسکیننگ کے دوران حاصل ہونے والے ڈیٹا کا انتہائی باریک بینی سے تجزیہ کرتا ہے اور سیکنڈوں کے اندر اس بات کا اندازہ لگا لیتا ہے کہ موضوعِ تجربہ کے ذہن میں کون سا منظر یا تصویر چل رہی ہے۔ اگرچہ اس تحقیق کو ابھی ابتدائی مراحل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، لیکن اس کی رفتار اور درستگی نے ماہرینِ نیورو سائنس اور مصنوعی ذہانت کو بھی دنگ کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی کئی شعبوں میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے عملی نفاذ سے طب اور نفسیات کے شعبوں میں بے پناہ مدد ملنے کی توقع ہے۔ وہ افراد جو بولنے یا اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے معذور ہوتے ہیں، مستقبل میں اس قسم کے اے آئی سسٹمز کی مدد سے اپنے دماغی خیالات اور بصری تصورات کو سکرین پر پیش کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ، خوابوں کو ریکارڈ کرنے اور یادداشت کے نظام کو سمجھنے کے لیے بھی یہ تحقیق ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے، تاہم سائنسدان اس کے اخلاقی اور نجی نوعیت کے استعمالات پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔