LIVE
Loading Breaking News...

مشرقی بیت المقدس برطانوی قونصل خانہ اور سفارت کاروں کی واپسی

News Image
اسرائیل کے حالیہ فیصلوں کے بعد برطانیہ کے بیشتر سفارت کار مشرقی بیت المقدس میں واقع قونصل خانے سے رخصت ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو اہم اور بنیادی خدمات بدستور فراہم کی جاتی رہیں گی۔
مشرقی بیت المقدس میں واقع برطانوی قونصل خانے سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اسرائیل کے اعلان کے بعد بیشتر برطانوی سفارت کاروں کے وہاں سے جانے کی اطلاعات ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب رواں برس ستمبر میں اسرائیل نے مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں پر برطانیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے جواب میں سخت اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی نے قونصل خانے کے معمول کے امور کو بھی متاثر کیا ہے۔ برطانوی حکام اور وزارت خارجہ کے نمائندگان اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ سفارتی تعلقات میں مزید بگاڑ کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب برطانوی سیاست دانوں اور بالخصوص ڈیوڈ میلی بینڈ جیسے اہم رہنماؤں کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سفارت کاروں کی تعداد میں کمی کے باوجود قونصل خانے کے ذریعے برطانوی شہریوں کو فراہم کی جانے والی 'اہم ترین اور بنیادی خدمات' (vital services) بغیر کسی تعطل کے جاری رکھی جائیں گی۔ اس ضمن میں متبادل انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قونصل خانے کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ بین الاقوامی سطح پر تجزیہ کار اس پیش رفت کو برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک نئے تناؤ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مغربی کنارے میں بستیوں کے معاملے پر مغربی ممالک اور اسرائیلی حکومت کے درمیان اختلافات پہلے ہی پائے جاتے ہیں، تاہم حالیہ سفارتی ردعمل نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ دونوں ممالک اس سفارتی ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں اور قونصل خانے کے امور کتنی تیزی سے معمول پر آتے ہیں۔