LIVE
Loading Breaking News...

کرسٹا پائیک پھانسی کی ناکام کوشش کے بعد ہسپتال میں چلنے پھرنے لگی

News Image
کولین سلیمیم کی قاتل کرسٹا پائیک کو دو مرتبہ جان لیوا انجیکشن دینے کے باوجود سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اب اس کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ ہسپتال کے کمرے میں خود چلنے پھرنے لگی ہے۔
امریکہ میں قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والی مجرمہ کرسٹا پائیک کے حوالے سے ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، کرسٹا پائیک کے وکیل کا کہنا ہے کہ دو مرتبہ جان لیوا انجیکشن دینے کے باوجود پھانسی پانے والی یہ مجرمہ اب اپنے ہسپتال کے کمرے میں خود چلنے پھرنے کے قابل ہو چکی ہے۔ یہ واقعہ امریکی تاریخ میں انتہائی غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے جہاں اتنی سنگین سزاؤں کے باوجود مجرمہ کی زندگی بچ جانے اور اس کی صحت بہتر ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ کرسٹا پائیک کو سنہ 1995 میں کولین سلیمیم کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ کئی دہائیوں تک قانونی چارہ جوئی اور اپیلوں کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد حال ہی میں اس پر سزائے موت پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق اس دوران اسے دو مرتبہ لیھل انجیکشن دینے کی کوشش کی گئی لیکن کسی تکنیکی یا طبی پیچیدگی کی وجہ سے یہ عمل مکمل نہ ہو سکا اور مجرمہ زندہ بچ گئی۔ اس ناکام عمل کے بعد اسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جہاں اس کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ اب اس کے وکیل کی جانب سے یہ نیا بیان سامنے آیا ہے کہ کرسٹا پائیک کی حالت میں نمایاں بہتری آ چکی ہے اور وہ ہسپتال کے کمرے میں اپنے پاؤں پر چلنے پھرنے لگی ہے۔ اس انکشاف نے قانونی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھوٹی دی ہے کہ آیا کسی مجرم پر بار بار پھانسی کی کوشش کرنا انسانی حقوق کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ دوسری جانب مقتولہ کولین سلیمیم کے ورثا اور عام عوام میں اس خبر پر شدید ردعمل پایا جا رہا ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے انصاف کے منتظر تھے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ناکام پھانسی کے بعد کرسٹا پائیک کے وکلاء کو ایک بار پھر عدالت سے رجوع کرنے کا موقع مل گیا ہے اور وہ اس بنیاد پر سزا کے خلاف نئی اپیلیں دائر کر سکتے ہیں۔ امریکی عدالتی نظام میں یہ کیس ایک منفرد مثال بن چکا ہے جہاں موت کے منہ سے نکل کر مجرمہ اب ہسپتال میں چل پھر رہی ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ عدالت اس پورے معاملے پر کیا نیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور آیا اس پر دوبارہ سزائے موت پر عمل درآمد کی کوشش کی جائے گی یا نہیں۔