LIVE
Loading Breaking News...

بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگراموں میں کمی، یو اینڈ یورز بھی متاثر

News Image
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ریڈیو 4 کے مقبول ترین پروگرام 'یو اینڈ یورز' سمیت کئی اہم پروڈکشنز میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نئے صارفین کے لیے خصوصی پروگراموں میں سرمایہ کاری کرنا اور اخراجات کو متوازن بنانا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنے مالیاتی اور انتظامی فیصلوں کے تحت ریڈیو 4 کے متعدد روایتی اور طویل عرصے سے چلنے والے پروگراموں میں بڑی کٹائی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کی زد میں آنے والے پروگراموں میں معروف اور عوام میں مقبول ترین شو 'یو اینڈ یورز' (You and Yours) بھی شامل ہے، جو طویل عرصے سے صارفین کے حقوق اور روزمرہ کے مسائل پر بحث کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ بی بی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اقدامات ادارے کی نئی حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور میں مالی وسائل کا بہتر استعمال کیا جا سکے۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ اگرچہ روایتی پروگراموں کے دائرہ کار کو محدود کیا جا رہا ہے، لیکن ادارہ اب بھی ناظرین اور سامعین کی نئی نسل کو راغب کرنے کے لیے ایک بالکل نئے کنزیومر پروگرام میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نئی سرمایہ کاری کا مقصد جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ایسی معلومات فراہم کرنا ہے جو آج کے ڈیجیٹل صارفین کی ضروریات سے زیادہ قریب ہوں۔ نشریاتی ادارے کا ماننا ہے کہ میڈیا انڈسٹری میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ قدم ملانے کے لیے ایسے سخت فیصلے کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، اس فیصلے سے ریڈیو کے روایتی سامعین اور میڈیا حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریڈیو 4 کے اہم ترین پروگراموں میں کمی سے ناظرین کا ایک بڑا طبقہ مستند اور گہرائی سے تجزیہ فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز سے محروم ہو جائے گا۔ خاص طور پر 'یو اینڈ یورز' جیسے پروگرام کو ختم کرنا یا اس میں نمایاں کمی لانا عام لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے ایک بڑا نقصان سمجھا جا رہا ہے۔ بی بی سی انتظامیہ کا دفاع کرتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ تمام تبدیلیاں تنظیمی کارکردگی کو بہتر بنانے اور محدود وسائل میں بہترین خدمات کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہیں۔ ادارہ آنے والے مہینوں میں اس نئی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے تحت ریڈیو اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے درمیان توازن قائم کیا جائے گا۔ سامعین اور ملازمین دونوں کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ بی بی سی کا یہ نیا کنزیومر پروگرام روایتی خلا کو کس حد تک پر کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔