Sports
پریمیم لیگ فٹ بال جرسیوں کی تیاری اور کمبوڈیا کے کارکنوں کی کم اجرت
بی بی سی سپورٹ کی ایک حالیہ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کی مقبول ترین پریمیم لیگ کی آفیشل فٹ بال جرسیوں کی تیاری کمبوڈیا کے کارخانوں میں کی جاتی ہے۔ ان کارخانوں میں کام کرنے والے غریب کارکنوں کو انتہائی کم اجرت دی جاتی ہے جو فی گھنٹہ ایک پاؤنڈ سے بھی کم بنتی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اسپورٹس کی ایک تہلکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ دنیا بھر میں شائقین کی توجہ کا مرکز بننے والی پریمیر لیگ کی آفیشل فٹ بال جرسییں تیار کرنے والے غریب مزدوروں کو انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ جرسییں کمبوڈیا کے مختلف کارخانوں میں تیار کی جاتی ہیں جہاں کام کرنے والے کارکنوں کو فی گھنٹہ ایک برطانوی پاؤنڈ سے بھی کم اجرت دی جاتی ہے۔ اس انکشاف کے بعد فٹ بال کے تجارتی نظام اور عالمی برانڈز کے اخلاقی رویے پر شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم نے کمبوڈیا کے ان صنعتی علاقوں کا جائزہ لیا جہاں بڑے کھیلوں کے برانڈز کے لیے ملبوسات کی سلائی اور تیاری کا کام انجام دیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ فیکٹریاں عالمی سطح پر کروڑوں پاؤنڈز کی کمائی کرنے والی فٹ بال کلبوں اور کٹس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے کام کرتی ہیں۔ اس کے باوجود، زمین پر حقیقت یہ ہے کہ ان مصنوعات کو بنانے والے محنت کشوں کو بمشکل اتنی رقم ملتی ہے جس سے وہ اپنے بنیادی گھریلو اخراجات پورے کر سکیں۔ کم اجرت اور طویل اوقاتِ کار کی وجہ سے مزدوروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد کھیلوں کی دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا کلبوں اور بڑی اسپورٹس کمپنیوں کو اپنے سپلائی چین اور فیکٹریوں کے حالات کا دوبارہ جائزہ نہیں لینا چاہیے۔ فٹ بال کے مداح جو اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیوں کے لیے بھاری قیمتیں ادا کرتے ہیں، اس بات سے اکثر بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کپڑوں کے پیچھے کتنی دردناک کہانیاں اور مزدوروں کا معاشی استحصال چھپا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان مزدوروں کو منصفانہ اجرت دی جائے اور کام کے حالات کو بہتر بنایا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پریمیم لیگ کی مینجمنٹ اور متعلقہ ملبوسات ساز کمپنیوں کو فوری طور پر اس معاملے پر سخت لائحہ عمل اپنانا چاہیے۔ اگرچہ یہ کمپنیاں کارپوریٹ سوشل رسپانس بلبلوں کے تحت بڑے دعوے کرتی ہیں، لیکن حقیقت میں کم ترقی یافتہ ممالک میں قائم کارخانوں کے اندر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس تحقیقاتی رپورٹ کے بعد کیا فٹ بال کلب اور عالمی برانڈز اپنے پروڈکشن ماڈل میں کوئی مثبت تبدیلی لاتے ہیں یا نہیں تاکہ ان غریب مزدوروں کا استحصال روکا جا سکے۔