World
این ایچ ایس میں اصلاحات: بیٹی کی موت کے بعد والدین کا اہم مطالبہ
برطانیہ میں ایک دلخراش واقعے کے بعد والدین نے نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے نظام میں فوری اور بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ نیل اور کیٹی رسل اپنی بیٹی کی المناک موت کے بعد اسی اسپتال کے ساتھ مل کر نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد متاثرہ والدین نے صحت کے قومی ادارے نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس میں فوری تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ نیل اور کیٹی رسل نامی جوڑے کو اپنی نوزائیدہ بیٹی کی المناک موت کے بعد نہ صرف شدید صدمے سے گزرنا پڑا بلکہ انہیں اس حادثے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا، جس نے ان کے غم کو مزید بڑھا دیا۔ والدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا رویہ متاثرہ خاندانوں کے لیے ناقابل برداشت ہے اور طبی نظام میں احتساب کے عمل کو شفاف بنایا جانا چاہئے۔ اس مشکل وقت سے گزرنے کے بعد، اب نیل اور کیٹی رسل اسی اسپتال کے ساتھ مل کر ایک نئے منصوبے پر کام کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس قسم کے دردناک تجربے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد طبی عملے کی تربیت کرنا، والدین کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنانا اور ایسے سانحات کی صورت میں تحقیقات کے نظام کو زیادہ منصفانہ بنانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات سے نہ صرف اسپتالوں کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ مریضوں اور عملے کے درمیان پاعتماد تعلقات بھی قائم ہو سکیں گے۔ برطانوی میڈیا میں اس جوڑے کی اس جدوجہد کو بہت سراہا جا رہا ہے اور عوامی سطح پر بھی این ایچ ایس کے اندرونی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔