World
غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، امن معاہدہ تاحال تعطل کا شکار
امن معاہدے کے لیے امریکی کوششوں میں تعطل اور جنگ بندی نہ ہونے کی وجہ سے غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر ہلاکتیں جاری ہیں۔ فلسطینی عوام بدستور انتہائی نامساعد حالات میں تنگ و تاریک خیمہ بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی اور خونی تنازعے کے دوران ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت سامنے آئی ہے کہ امن معاہدے کے تعطل کے باعث عام شہریوں کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ خطے میں جاری کشمکش کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق بدستور انتہائی خطرناک اور تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔ امریکی سطح پر پیش کیے جانے والے جنگ بندی اور امن کے منصوبے تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں، جس کی وجہ سے غزہ کے باسی روزانہ کی بنیاد پر بمباری اور حملوں کی زد میں ہیں۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ خمیازہ بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو اپنے گھر بار چھوڑ کر انتہائی محدود وسائل کے ساتھ عارضی خیمہ بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ خیمہ بستیاں بنیادی سہولتوں سے بالکل محروم ہیں جہاں گنجان آباد ماحول، صاف پانی کی قلت اور طبی امداد کے فقدان نے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ سردی اور گرمی کے تھپیڑے سہنے والے یہ افراد ہر روز خوف کے سائے میں آنکھ کھولتے ہیں کیونکہ کسی بھی وقت ہونے والا حملہ ان کے لیے نئی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، غزہ کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حالیہ فضائی اور زمینی حملوں میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر دن موت اور تباہی کی نئی داستاں لے کر آتا ہے اور بظاہر ایسا کوئی اشارہ نہیں مل رہا کہ یہ جنگ جلد ختم ہو گی۔ طبی عملے اور امدادی تنظیموں کو بھی شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی اور خوراک کی تقسیم انتہائی دشوار ہو گئی ہے۔
سیاسی اور سفارتی حلقوں کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں، لیکن فریقین کے مابین پائیدار امن کے حصول کے لیے شرائط پر اتفاق نہ ہونا سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ جب تک کوئی باضابطہ اور موثر معاہدہ طے نہیں پاتا، غزہ کے نہتے عوام کے لیے مصائب کا یہ دور تھمتا دکھائی نہیں دیتا۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے ایک بار پھر فوری جنگ بندی اور متاثرہ علاقوں تک بلا تعطل امداد کی رسائی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔