Business
برطانیہ میں گرمی کی شدت سے آلوؤں کی فصل کیوں متاثر ہو رہی ہے
برطانوی کسانوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمیوں اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کی وجہ سے آلو کی فصل متاثر ہو رہی ہے۔ فصل قبل از وقت برداشت کرنے کی مجبوری کے باعث مارکیٹ میں آلوؤں کا سائز چھوٹا آ رہا ہے۔
برطانیہ میں کسانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس سال موسم گرما میں پڑنے والی شدید گرمی کی لہر نے ملکی زراعت بالخصوص آلو کی فصل پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور خشک سالی کے باعث آلوؤں کی نشوونما کا عمل سست پڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے کسانوں کو توقع سے کہیں زیادہ چھوٹے آلو مارکیٹ میں لانا پڑ رہے ہیں۔ زراعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس تناظر میں فصلوں کی پیداوار کو بچانا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
کسان برادری کا کہنا ہے کہ معمول سے ہٹ کر پڑنے والی گرمی اور پانی کی قلت کے باعث فصلوں کے پاس پھلنے پھولنے کا پورا موقع نہیں ہوتا۔ کسانوں کو مجبورا معمول کے وقت سے پہلے ہی فصل کی کٹائی کرنا پڑتی ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ قبل از وقت کٹائی کی اس مجبوری کی وجہ سے آلو کا اوسط سائز بہت چھوٹا رہ جاتا ہے، جو نہ صرف صارفین کی توقعات کے برعکس ہے بلکہ تجارتی لحاظ سے بھی کسانوں کے لیے منافع بخش ثابت نہیں ہو رہا۔
اس صورتحال نے برطانوی زرعی مارکیٹ میں آلو کی رسد اور طلب کے توازن کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سپر مارکیٹوں اور سبزی منڈیوں میں چھوٹے سائز کے آلوؤں کی بہتات دکھائی دے رہی ہے، جس پر خریداروں اور تاجروں دونوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ زرعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آنے والے سالوں میں بھی موسمیاتی حالات کا یہی عالم رہا تو برطانوی کسانوں کو جدید طریقہ ہائے کاشت اور آبپاشی کے متبادل نظام اپنانا ہوں گے تاکہ فصلوں کو شدید گرمی کے نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔