Technology
مارگریٹ ہیملٹن، اپالو مشن کی سافٹ ویئر آرکیٹیکٹ، انتقال کر گئیں
نامور کمپیوٹر سائنٹسٹ مارگریٹ ہیملٹن نے ناسا کے اپالو مشن کے لیے سافٹ ویئر کی تیاری کی قیادت کی تھی۔ انہیں ان کی شاندار خدمات کے صلے میں صدارتی تمغہ آزادی سے بھی نوازا گیا تھا۔
معروف اور مایہ ناز کمپیوٹر سائنٹسٹ مارگریٹ ہیملٹن، جنہوں نے 1969 میں ناسا کے تاریخی اپالو 11 مشن کو چاند پر کامیابی سے اتارنے میں اہم ترین تکنیکی کردار ادا کیا تھا، 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی وفات پر دنیا بھر کے سائنسی اور تکنیکی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مارگریٹ ہیملٹن نے اس دور میں سافٹ ویئر انجینئرنگ کی بنیاد رکھی جب یہ شعبہ اپنی ابتدائی شکل میں تھا اور کمپیوٹر سائنس کو سنجیدہ سائنسی مضمون نہیں سمجھا جاتا تھا۔
مارگریٹ ہیملٹن نے ناسا کے اپالو مشن کے لیے فلائٹ سافٹ ویئر کی تیاری میں مرکزی اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ ان کی ٹیم کے تیار کردہ کوڈ اور سسٹمز کی بدولت ہی اپالو 11 کا لینڈر چاند کی سطح پر بحفاظت اترنے میں کامیاب ہوا۔ ان کی ایجاد کردہ سافٹ ویئر ریڈیابلیٹی اور ایرر ہینڈلنگ کی تکنیکوں نے خلائی سفر کی تاریخ کا رخ موڑ دیا اور اس وقت کے نامساعد تکنیکی حالات میں انسان کو چاند پر قدم رکھنے کے قابل بنایا۔ ان کی محنت اور عزم نے خلاء نوردی کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا۔
اپنی شاندار سائنسی اور تکنیکی خدمات کے اعتراف میں مارگریٹ ہیملٹن کو کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں امریکہ کے اس وقت کے صدر کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے سویلین اعزاز 'صدارتی تمغہ آزادی' سے بھی سرفراز کیا گیا تھا۔ ان کے کارنامے اس بات کی علامت ہیں کہ خواتین نے تاریخ ساز سائنسی ترقی میں کس قدر گراں قدر کردار ادا کیا ہے۔
ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کی دنیا مارگریٹ ہیملٹن کی ہمیشہ مقروض رہے گی۔ ان کا کام نئی نسل کے کمپیوٹر سائنٹسٹس، خصوصاً خواتین کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔ ان کی وفات سے خلاء اور ٹیکنالوجی کی دنیا ایک عظیم مخلص اور باصلاحیت شخصیت سے محروم ہو گئی ہے، لیکن ان کا چھوڑا ہوا علمی اور تکنیکی سرمایہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔