LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور لبنان مطلوب شامی جنرل کو پناہ دیئے ہوئے ہیں: بی بی سی

News Image
بی بی سی کی ایک نئی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ اور لبنان ایک مطلوب شامی جنرل کو پناہ فراہم کر رہے ہیں۔ یہ اقدام مبینہ طور پر اہم معلومات کے حصول کے عوض کیا جا رہا ہے جس میں لاپتہ امریکی رپورٹر آسٹن ٹائس سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور لبنان مبینہ طور پر ایک مطلوب شامی جنرل بَسّام الحسن کو پناہ فراہم کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ پناہ اس بات کے بدلے دی جا رہی ہے کہ مذکورہ شامی جنرل کچھ اہم خفیہ معلومات فراہم کرے گا، جس میں شام میں لاپتہ ہونے والے امریکی صحافی آسٹن ٹائس کے بارے میں معلومات بھی شامل ہیں۔ اس انکشاف کے بعد بین الاقوامی سطح پر سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بَسّام الحسن کو ماضی میں مختلف نوعیت کے سنگین الزامات کا سامنا رہا ہے اور وہ شامی حکومت کے اعلیٰ سکیورٹی حلقوں میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان پر بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ تاہم، امریکہ اور لبنان کی جانب سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی باضابطہ اور تفصیلی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، جو اس خبر کی حساسیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔ دوسری جانب، لاپتہ امریکی صحافی آسٹن ٹائس کے اہل خانہ طویل عرصے سے ان کی بازیابی یا ان کے بارے میں کسی بھی قسم کی مصدقہ معلومات کے لیے کوشاں ہیں۔ سنہ 2012 میں شام میں لاپتہ ہونے والے آسٹن ٹائس کا معاملہ امریکی حکومت کے لیے ہمیشہ سے ایک انتہائی جذباتی اور سیاسی طور پر حساس مسئلہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مبینہ طور پر ان کی بازیابی کے لیے اس قسم کے غیر معمولی انٹیلی جنس اور سفارتی ذرائع پر غور کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کی اس تحقیقات نے ایک بار پھر شام کی خانہ جنگی کے دوران ہونے والے انسانی حقوق کے مسائل اور عالمی طاقتوں کے خفیہ سفارتی ہتھکنڈوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس بات کی مزید تصدیق ہوتی ہے کہ مطلوب افراد کو معلومات کے بدلے تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، تو اس سے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ آنے والے دنوں میں اس رپورٹ کے بعد واشنگتن اور بیروت کے حکام پر مزید سوالات اٹھائے جانے کا قوی امکان ہے۔