LIVE
Loading Breaking News...

کارنیل یونیورسٹی زیادتی کیس: مدعی کو دھمکیاں ملنے کا انکشاف

News Image
کارنیل یونیورسٹی میں پیش آنے والے مبینہ زیادتی کے واقعے کی مدعی کو قانونی جنگ کے دوران سنگین دھمکیوں کا سامنا ہے۔ مدعیہ کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ موکلہ کو ڈرانے دھمکانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
امریکہ کی معروف کارنیل یونیورسٹی میں پیش آنے والے ایک مبینہ زیادتی کے مقدمے میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ اس کیس کی مدعیہ، جنہیں قانونی دستاویزات میں 'جین ڈو' (Jane Doe) کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے، کے وکیل تھامس جیوफ्रा نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی موکلہ کو مقدمہ لڑنے کی پاداش میں سنگین نوعیت کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بی بی سی نیو آؤر سے بات کرتے ہوئے وکیل نے بتایا کہ اس حساس معاملے میں انصاف کے حصول کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور مدعیہ کو شدید دباؤ میں لایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ پورا معاملہ سال 2024 کے دوران یونیورسٹی کے کیمپس میں واقع ایک فرات ہاؤس (frat house) میں پیش آنے والے مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے سے جڑا ہوا ہے۔ قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دھمکیوں اور ہراساں کیے جانے کے باوجود وہ اپنے مؤکل کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کو پوری दृढ़ता کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ اس پیش رفت کے بعد یونیورسٹی کے حلقوں اور تعلیمی اداروں میں طلباء کی حفاظت اور انصاف کے نظام پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے ہائی پروفائل مقدمات میں مدعیان کو تحفظ فراہم کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے عدالتوں کا رخ کر سکیں اور سچ سامنے آ سکے۔ کیس کی مزید سماعت آنے والے دنوں میں متوقع ہے جہاں اس نئے تنازع پر بھی عدالت میں بحث کی جائے گی۔