Pakistan
مکہ معاہدہ: پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں دستوں کی تعیناتی
پاکستانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت سکیورٹی دستے سعودی عرب روانہ کر دیے گئے ہیں۔ اسٹریٹجک دفاعی تعاون کے اس اقدام پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
راولپنڈی (نیکسورا نیوز اردو) پاکستانی فوج نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت ملک کے عسکری دستے سعودی عرب میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات اور دفاعی تعاون کی کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس نئی عسکری تعیناتی کا مقصد خطے میں امن و امان کے قیام اور خلیجی ریاست کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، جس کے تحت پاکستانی دستے اہم سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اہم عسکری فیصلے کے وقت ملکی پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور پارلیمانی بحث کے بغیر ہی یہ قدم اٹھایا گیا۔ اس بات پر اپوزیشن جماعتوں اور بعض قانون سازوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اتنے بڑے دفاعی فیصلے پارلیمانی فورمز پر بحث کے بعد ہونے چاہئیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود، خطے کے دیگر ممالک اور عالمی قیادت نے اس سکیورٹی تعاون کو مثبت نگاہ سے دیکھا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے عسکری حمایت کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ خلیجی خطے کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل منظرنامے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تاہم اس کی طویل المدتی کامیابی اور چیلنجز پر بھی مبصرین کی گہری نظر ہے۔