LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران ڈیل سے انکار، امریکہ کی ممکنہ بڑی فوجی کارروائی کی تیاری

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے کے خواہاں نہیں ہیں۔ اس دوران امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں ممکنہ بڑے فضائی حملوں کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ کسی بھی نئے معاہدے کے حق میں نہیں ہیں۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ امریکی عسکری حلقے مبینہ طور پر مشرق وسطیٰ میں ممکنہ بڑے پیمانے پر بمباری اور فضائی حملوں کے لیے اپنی تیاریاں تیز کر چکے ہیں۔ امریکی میڈیا اداروں کی رپورٹس کے مطابق، امریکی فوج کو خطے میں ممکنہ کارروائیوں کے لیے الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ٹرمپ خود ان حملوں کی مناسب وقت بندی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب پینٹاگون اور دیگر دفاعی اداروں کی طرف سے درمیانی مدت کے انتخابات سے قبل ایران کے خلاف جنگی آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امریکہ خطے میں اپنی عسکری موجودگی مزید بڑھا رہا ہے، جس کے تحت ایک تیسرا ائیرکرافت کیریئر اور تقریباً دس ہزار اضافی فوجی مشرق وسطیٰ روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اس بڑی عسکری نقل و حرکت نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس سے خطے میں ایک نئی اور تباہ کن جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان عسکری اور سیاسی پیش رفت کے فوری اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی مارکیٹس پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی سرمایہ کار اور توانائی کے تاجر مشرق وسطیٰ کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال سے شدید فکرمند ہیں۔ تیل کی سپلائی لائنز اور بحری گزرگاہوں پر کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے انتہائی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔ ابھی تک دونوں جانب سے صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں لانے کے لیے کسی قسم کے سفارتی رابطوں کی کوئی خاص خبر سامنے نہیں آئی، بلکہ فریقین کی جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق یہی ظاہر کرتے ہیں کہ آنے والے دن مشرق وسطیٰ کے لیے انتہائی نازک اور چیلنجز سے بھرپور ہوں گے۔