LIVE
Loading Breaking News...

سعودی اتحاد کا حوثی میزائل حملہ ناکام بنانے کا اعلان

News Image
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دارالحکومت ریاض اور دیگر علاقوں کو نشانہ بنانے والے حوثی باغیوں کے تین بیلسٹک میزائل ناکام بنا دیے۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور سیکورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پا لیا۔
سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والے عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں بالخصوص دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے والے تین بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی کے ساتھ فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے دوران ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس کے بعد عارضی طور پر فلائٹ آپریشن اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور علاقائی میڈیا کے مطابق حوثی باغیوں کی طرف سے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے شہری انفراسٹرکچر اور ہوائی اڈوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ حالیہ کارروائی میں دو میزائلوں کا رخ براہ راست دارالحکومت ریاض کی طرف تھا جنہیں پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم کی مدد سے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں ختم کر دیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ملبہ گرنے سے کچھ املاک کو معمولی نقصان پہنچا ہے تاہم کسی بڑے جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی۔ دوسری جانب سعودی اتحاد کے ترجمان نے ان حملوں کو خطے کے امن اور سکیورٹی کے خلاف صریح دہشت گردی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مملکت کے شہریوں، رہائشیوں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثی باغی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ خطے میں جاری اس تازہ کشیدگی کے بعد عالمی برادری اور سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کی طرف آئیں اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملے نہ صرف یمن میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہیں بلکہ پورے خطے کے معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔