LIVE
Loading Breaking News...

ال نینو موسمیاتی تبدیلی دسمبر میں عروج پر ہوگی، اقوام متحدہ کی وارننگ

News Image
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ال نینو کا طوفان مزید شدت اختیار کرتے ہوئے دسمبر میں اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا۔ اس موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں دنیا بھر میں کروڑوں بچوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی اور ریگولیٹری اداروں نے ایک نئی عالمی موسمیاتی رپورٹ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ دنیا بھر میں 'ال نینو' (El Niño) کا رجحان مزید شدت اختیار کرنے جا رہا ہے اور یہ رواں برس دسمبر کے مہینے میں اپنی پوری شدت کے ساتھ عروج پر پہنچ جائے گا۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین موسمیاتی اپ ڈیٹس کے مطابق، یہ طاقتور موسمیاتی سسٹم آنے والے مہینوں میں دنیا بھر کے موسم کے معمولات کو شدید طور پر متاثر کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مونسٹر ال نینو کے اثرات فروری 2027 تک طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں، جس سے دنیا کا موسمیاتی نظام ایک نئے اور غیر یقینی دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں اور فنڈز، بشمول یونیسف، نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر کے لگ بھگ 100 ممالک میں 347 ملین سے زائد بچوں کو اس ریکارڈ ساز طاقتور ال نینو کے اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس موسمیاتی تغیر کے نتیجے میں شدید گرمی، خشک سالی، اور بعض علاقوں میں غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جو بچوں کی صحت، تعلیم اور تحفظ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ سائنسی ماہرین اور عالمی محققین کا ماننا ہے کہ موجودہ موسمیاتی حالات اتنے شدید ہیں کہ دنیا اس کے بعد شاید کبھی بھی اپنے سابقہ موسمیاتی معمول پر مکمل طور پر واپس نہ آ سکے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے یہ خطرناک رجحانات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات اٹھائیں تاکہ انسانی جانوں بالخصوص کمسن بچوں کو اس عالمی بحران کے تباہ کن اثرات سے بچایا جا سکے۔