Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ، مشرق وسطیٰ اور طوفان کا اثر
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج میکسیکو میں امریکی سمندری طوفان کے ممکنہ خطرے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد تک نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے عالمی سطح پر سپلائی چین شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت شدید تیزی دیکھنے میں آئی جب مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ میں شدت اور امریکہ میں ایک طاقتور سمندری طوفان کے خطرے نے توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا۔ مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں پانچ فیصد تک کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کے نئے خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی بحری جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں نے تیل کی ترسیل کو انتہائی غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ایران اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو اپنے روٹس تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ترسیل کا وقت اور لاگت دونوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ خطرات برقرار رہے تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کے ساحلی علاقوں بالخصوص خلیج میکسیکو میں ایک خطرناک سمندری طوفان کے منڈلانے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث وہاں تیل کی پیداوار کرنے والے پلانٹس کو وقتی طور پر بند یا محفوظ بنانا پڑ رہا ہے۔ امریکی حکام نے طوفان کے پیش نظر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں جس سے مقامی اور بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی یومیہ پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس قدرتی آفت اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے امتزاج نے عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کے حالات جلد معمول پر نہ آئے اور امریکی پیداواری شعبہ طوفان کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا، تو عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ مرکزی بینکوں اور حکومتوں کو بھی اس صورتحال پر گہری تشویش ہے کیونکہ تیل مہنگا ہونے سے دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ، بجلی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی اوپر جا سکتی ہیں۔