LIVE
Loading Breaking News...

مصنف کا تحریری عمل میں مصنوعی ذہانت استعمال نہ کرنے کا اعلان

News Image
ایک مشہور مصنف نے اپنے تحریری عمل میں لارج لینگویج ماڈلز یعنی مصنوعی ذہانت کے استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کیا ہے۔ مصنف کے مطابق تخلیقی عمل میں انسانی سوچ اور محنت کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔
یہ ایک ایسا مضمون نہیں تھا جو میں لکھنا چاہتا تھا، لیکن یہ میرے کام کے حوالے سے ایک ضروری بیان ہے جو کہ جنریٹیو لارج لینگویج ماڈلز یعنی مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں ہے۔ میں اپنے کام میں کسی بھی قسم کے ایل ایل ایم (LLMs) کا استعمال نہیں کرتا ہوں۔ میرا یہ فیصلہ کسی ضد یا فیشن کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے گہرے فکری اور تخلیقی اصول کارفرما ہیں جو تحریر کے بنیادی جوہر کو برقرار رکھتے ہیں۔ تخلیقی عمل صرف الفاظ کی ترتیب کا نام نہیں ہے بلکہ یہ مصنف کے ذاتی تجربات، جذبات اور کاوش کا نچوڑ ہوتا ہے۔ جب ہم مصنوعی ذہانت کی مدد سے تحریر تیار کرتے ہیں تو ہم اس انسانی عنصر کو کھو دیتے ہیں جو پڑھنے والے کے دل پر اثر کرتا ہے۔ ایک مصنف کی اصل طاقت اس کی اپنی سوچ، اس کی غلطیاں، اس کی خامیاں اور ان خامیوں کو سدھارنے کی مسلسل کوشش میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ آج کے اس دور میں جہاں ٹیکنالوجی ہر شعبے پر حاوی ہوتی جا رہی ہے، تخلیقی شعبوں میں بھی شارٹ کٹس کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ تاہم، یہ ماننا ضروری ہے کہ جو تحریر خون جگر سے لکھی جاتی ہے، اس کا اثر مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ مواد سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ میری تحریریں مکمل طور پر میری اپنی کاوش کا نتیجہ ہوتی ہیں، اور میں اپنے قارئین کے ساتھ اس ایمانداری کو برقرار رکھنے کا تہیہ کیے ہوئے ہوں۔