Technology
جی ٹی اے کلیکٹرز باکس اور گیمنگ کی بڑھتی قیمتیں
راک سٹار گیمز کی جانب سے گرینڈ تھیف آٹو کے نئے کلیکٹرز باکس کی قیمت £350 مقرر کیے جانے پر گیمنگ انڈسٹری میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح دنیا بھر میں جدید ویڈیو گیمز اور متعلقہ مصنوعات عام صارف کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
ویڈیو گیمنگ کی دنیا میں حال ہی میں اس وقت ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا جب مشہور زمانہ فرنچائز گرینڈ تھیف آٹو (GTA) کے نئے کلیکٹرز باکس کی قیمت ساڑھے تین سو پاؤنڈ (£350) مقرر کی گئی۔ راک سٹار گیمز کے اس حالیہ اقدام نے گیمنگ کمیونٹی کے اندر اور باہر شدید بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ صرف ایک پروڈکٹ کی بات نہیں ہے بلکہ یہ اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں گیمنگ اب عام آدمی کی تفریح کے بجائے ایک انتہائی مہنگا شوق بنتی جا رہی ہے۔ آج کے دور میں جہاں مہنگائی پہلے ہی اپنے عروج پر ہے، گیمنگ انڈسٹری کا اس طرح سے قیمتوں میں اضافہ کرنا صارفین کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جب سے گیمز کی تیاری میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور گرافکس کا استعمال بڑھا ہے، تب سے ان کی پیداواری لاگت میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بڑی گیمنگ کمپنیاں بیس گیمز کے علاوہ مختلف قسم کے کلیکٹرز ایڈیشنز اور ڈی لکس بنڈلز کے ذریعے صارفین سے بھاری منافع کمانے کی کوشش کرتی ہیں۔ £350 کی یہ بھاری رقم اس بات کا ثبوت ہے کہ اب محض گیم کھیلنا ہی کافی نہیں رہا بلکہ اس کے لوازمات بھی انتہائی مہنگے ہو چکے ہیں۔ اس قسم کی حکمت عملی سے جہاں ایک طرف کمپنی کے ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف عام گیمرز اپنے اس دیرینہ شوق سے بتدریج دور ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وہ اتنے بھاری اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
گیمنگ صحافیوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قیمتوں کا تعین انڈسٹری کے لیے طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جب نئی گیمز اور ان کے اسپیشل ایڈیشنز صرف مخصوص اور مالی طور پر مستحکم طبقے کی دسترس میں آ جائیں گے، تو اس سے گیمنگ کلچر محدود ہو کر رہ جائے گا۔ راک سٹار گیمز کا یہ قدم اگرچہ مالیاتی لحاظ سے وقتی طور پر کامیاب ہو سکتا ہے، لیکن یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انڈسٹری کے اندر قیمتوں کا کنٹرول اب صارفین کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہو گا کہ آیا گیمرز اس رجحان کو قبول کرتے ہیں یا پھر وہ متبادل سستے ذرائع اور انڈی گیمز کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔