LIVE
Loading Breaking News...

الرجی مینجمنٹ ریٹنگ: بارہ سالہ بچی کی ہلاکت کے بعد اہم مطالبات

News Image
برطانیہ میں بارہ سالہ بچی میا سینٹ ہلیئر کی گری دار میوے کی الرجی کے باعث ہلاکت کا دلخراش واقعہ پیش آیا ہے۔ اس سانحے کے بعد فوڈ انڈسٹری اور ریسٹورنٹس میں الرجی کے انتظام اور حفاظتی درجہ بندی کے نظام کو سخت کرنے کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔
لندن میں بارہ سالہ بچی میا سینٹ ہلیئر کی درختوں کے گری دار میوے یعنی نٹس سے شدید الرجی کے باعث المناک موت واقع ہو گئی ہے۔ میا سینٹ ہلیئر کو ایک ملک شیک پینے کے بعد شدید انامیلیکٹک شاک کا سامنا کرنا پڑا، جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد طبی ماہرین اور لواحقین کی جانب سے فوڈ انڈسٹری میں الرجی کے انتظام اور حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے بھرپور مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ میا کی دردناک موت نے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے اداروں میں الرجی سے متعلق معلومات کے فقدان اور حفاظتی پروٹوکولز پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریسٹورنٹس اور کیفےز میں الرجی مینجمنٹ کے حوالے سے ایک واضح اور جامع ریٹنگ سسٹم ہونا چاہیے تاکہ صارفین کو پہلے سے معلوم ہو سکے کہ کون سا ادارہ حفاظتی انتظامات کے معاملے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ اس ریٹنگ کے نفاذ سے صارفین بالخصوص بچوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے گا۔ اس سانحے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ فوڈ بزنسز میں کام کرنے والے عملے کو خوراک میں موجود الرجی پیدا کرنے والے اجزاء سے متعلق مکمل تربیت دی جانی چاہئے۔ متاثرہ خاندان اور فلاحی تنظیمیں اب اس بات کے لیے سرگرم ہیں کہ حکومت قانون سازی کرے تاکہ کسی اور معصوم کو اس قسم کے واقعے کا شکار نہ ہونا پڑے۔ تمام متعلقہ حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ غذائی مصنوعات پر الرجی کے انتباہات کو مزید واضح اور لازمی قرار دیا جائے تاکہ اس طرح کے حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔