LIVE
Loading Breaking News...

سکاٹ لینڈ: خواتین کے خلاف جرائم پر 45 پولیس اہلکار معطل

News Image
سکاٹ لینڈ کے پولیس چیف کانسٹیبل جو فیرل نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کے خلاف مبینہ جرائم میں ملوث ہونے پر 45 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اہلکاروں کی اسکریننگ اور ریویٹنگ کے عمل کے دوران مزید اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کا امکان ہے۔
سکاٹ لینڈ میں پولیس کے محکمے کے اندر احتساب کے عمل کو سخت کرتے ہوئے پینتالیس پولیس اہلکاروں کو خواتین کے خلاف مبینہ جرائم کی پاداش میں معطل کر دیا گیا ہے۔ اس بات کا باضابطہ اعلان سکاٹ لینڈ کی چیف کانسٹیبل جو فیرل کی جانب سے کیا گیا ہے، جس نے ملک بھر کے پولیس فورس میں ہلچل مچا دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم ادارے کے اندر غیر قانونی رویوں اور بدسلوکی کے خلاف زیرو ٹالیرنس پالیسی کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ چیف کانسٹیبل جو فیرل نے مزید بتایا ہے کہ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب پولیس اہلکاروں کی دوبارہ سے جانچ پڑتال اور ری ویٹنگ کا عمل شروع کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل کے دوران مزید ایسے اہلکاروں کے سامنے آنے کا امکان ہے جن کے خلاف ضابطے کی کارروائی یا مجرمانہ تحقیقات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پولیس قیادت کا عزم ہے کہ ادارے کی ساکھ کو داغدار کرنے والے عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس پیشرفت کے بعد ملک بھر میں عوامی حلقوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ایک طرف جہاں پولیس کے اندر اس صفائی مہم کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف فورس کے اندر اس نوعیت کے جرائم کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے سخت اقدامات سے انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ سکاٹ لینڈ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خواتین کے حقوق اور تحفظ کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔ محکمے کے تمام اہلکاروں کے کردار کی شفاف تحقیقات جاری ہیں تاکہ قانون کے کٹہرے میں ایسے تمام افراد کو لایا جا سکے جو اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے جرائم میں ملوث پائے گئے۔ یہ تحقیقات آنے والے ہفتوں میں مزید وسعت اختیار کر سکتی ہیں جس سے نئے حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔