World
یوکرین میں روسی حملہ، بسوں کو نشانہ بنانے سے 30 افراد جاں بحق
یوکرین کے محاذ جنگ کے قریب شہر کراماتورسک میں روسی حملے کے نتیجے میں مسافروں سے بھری دو بسیں تباہ ہو گئی ہیں، جس سے کم از کم تیس افراد جاں بحق ہو گئے۔ یوکرین نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جان بوجھ کر سویلینز کو نشانہ بنانے کی گھناؤنی کارروائی قرار دیا ہے۔
یوکرین کے محاذ جنگ کے قریب واقع شہر کراماتورسک میں روس کی جانب سے کیے جانے والے ایک انتہائی شدید اور ہلاکت خیز فضائی حملے میں کم از کم تیس افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یوکرین کے حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی افواج نے دانستہ طور پر دو بھری ہوئی مسافر بسوں کو نشانہ بنایا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا سکے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تنازعے میں شدت آ رہی ہے اور عام شہریوں پر ہونے والے حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ یوکرینی حکام نے دنیا بھر کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انسانی المیے کا سخت نوٹس لیں اور روس کی جانب سے جنگی جرائم کے مرتکب ہونے پر اسے عالمی سطح پر کٹہرے میں لایا جائے۔ حملے کے بعد جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں جہاں ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب، اس تازہ حملے نے یوکرین کے دیگر شہروں میں بھی خوف و ہراس کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے بھی شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ محاذ جنگ کے قریب اس نوعیت کے حملے سویلین آبادی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں اور اس سے خطے میں امن کی بحالی کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔