LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی اسرائیلی حملے جاری

News Image
معاہدے کے تحت ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں موجود تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔ ایک سال گزرنے کے باوجود خطے میں کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کو ایک سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، تاہم زمینی حقائق کے مطابق خطے کے باسیوں کو تاحال تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال نے جنگ سے متاثرہ اس علاقے کے عام شہریوں کی زندگی کو انتہائی اجیرن بنا دیا ہے اور تعمیر نو کے عمل میں شدید رکاوٹیں حائل ہو رہی ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینیوں کو، جو کہ اسرائیلی حراست میں تھے، رہا کر دیا گیا تھا۔ اس تبادلے کے بدلے میں غزہ میں موجود باقی تمام یرغمالیوں کو بھی بحفاظت واپس لایا گیا تھا، جس سے ایک عارضی پرسکون فضا قائم ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی۔تاہم، اس بڑی پیش رفت اور قیدیوں کے تبادلے کے باوجود مستقل امن کے قیام میں ناکامی کی وجہ سے کشیدگی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے ان فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں خطے کے اندر انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے پائیدار امن کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششیں تاحال ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، اور تازہ ترین کارروائیوں کی وجہ سے طبی امداد، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لینے اور حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خطے کے باسی معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں۔