World
امریکہ کی جانب سے افریقی ممالک کو تارکین وطن کی ملک بدری غیر قانونی قرار
ہیومن رائٹس واچ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اب تک پانچ سو سے زائد تارکین وطن کو افریقی ممالک میں جبراً بے دخل کیا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیم نے اس عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تارکین وطن کی مشکلات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے مترادف ہے۔
واشنگٹن: بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے امریکہ کی جانب سے افریقی ممالک کو تارکین وطن کی ملک بدری پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے تارکین وطن کو افریقہ کے مختلف ممالک میں زبردستی واپس بھیجنے کا عمل نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ان افراد کی مشکلات اور مصائب کا مذموم استحصال بھی ہے۔ امریکی اعداد و شمار کے حوالے سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اب تک پانچ سو سے زائد تارکین وطن کو اس متنازع پالیسی کا نشانہ بنایا جا चुका ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جن افراد کو امریکہ سے بے دخل کیا گیا ہے، انہیں اپنے آبائی ممالک میں شدید سکیورٹی خدشات اور انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا موقف ہے کہ امریکی حکومت کو اس عمل کو فوری طور پر روکنا چاہیے اور پناہ کے متلاشی افراد کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کو یقینی بنانا چاہیے۔ اس طرح کی اجتماعی ملک بدریاں بنیادی انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے منافی ہیں، جو کسی بھی شخص کو ایسے خطے میں واپس بھیجنے سے منع کرتے ہیں جہاں اس کی جان کو خطرہ ہو۔
دوسری جانب، امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی امیگریشن قوانین کے نفاذ اور سرحدی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم، ناقدین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ سیاسی دباؤ کے تحت قانونی تقاضوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ پناہ گزینوں کے حقوق کے حامیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی کانگریس اس معاملے پر فوری نوٹس لے اور تارکین وطن کی ملک بدری کے ان طریقوں کی مکمل اور شفاف تحقیقات کروائے تاکہ متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔