World
فرانسیسی طلباء کا احتجاج اور پولیس کی کارروائیوں پر شدید تنقید
فرانس میں بہتر تعلیمی سہولیات اور پولیس کے جارحانہ رویے کے خلاف طلباء کے احتجاج میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ نو جوانوں کا کہنا ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے تو کم عمر ہیں لیکن آنسو گیس کا سامنا کرنے کے لیے کافی بڑے ہیں۔
فرانس بھر میں طلباء کا غصہ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب ملک کے مختلف شہروں میں بہتر تعلیمی سہولیات کے حصول اور پولیس کے جارحانہ ہتھکنڈوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی گئیں۔ نعرے بازی کرتے ہوئے نوجوانوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانا بند نہیں کریں گے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نے اگرچہ اسکولوں کی بہتری کے لیے کچھ وعدے کیے ہیں، لیکن زمینی سطح پر کوئی خاطر خواہ تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔
اس تحریک کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختلف ویڈیوز اور نعروں نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے، جن میں سے ایک نعرہ ’ووٹ ڈالنے کے لیے بہت کم عمر، لیکن آنسو گیس برداشت کرنے کے لیے اتنے بڑے‘ خاص طور پر نمایاں ہوا۔ نوجوانوں کا ماننا ہے کہ انہیں ان کے جائز مطالبات کے لیے سڑکوں پر لاٹھیاں اور آنسو گیس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو کہ ایک جمہوری معاشرے میں ناقابل قبول ہے۔ کئی مقامات پر پولیس اور طلباء کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے طاقت کا استعمال کیا گیا۔
دوسری جانب، حکومت اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے صورتحال کو قابو کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایک فرانسیسی میئر، جو حالیہ دنوں میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران طلباء کے ساتھ وائرل ویڈیو میں نظر آئے، انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مظاہرین ان کے اپنے بچوں کی طرح ہیں، جس سے حکام اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی ہمدردی اور تناؤ دونوں کا اظہار ہوتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق فرانس میں یہ طلباء احتجاج اب ایک وسیع تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں لگاتار دوسرے ہفتے بھی ملک بھر میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر طلباء کے مطالبات سنجیدگی سے نہ سنے اور پولیس کے طریقہ کار میں بہتری نہ لائی، تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے اور فرانسیسی سیاست پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔