LIVE
Loading Breaking News...

خلیج میں ٹینکرز پر حملے اور تیل کی مارکیٹ پر اثرات

News Image
خلیجی ممالک کے قریب تیل بردار جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں نے بین الاقوامی تیل کی منڈیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ان حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے اور سکیورٹی خدات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
خلیجی خطے میں تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں کا دائرہ کار مزید وسیع ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی تیل کی منڈیوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز اور اس سے باہر خلیجی پانیوں میں ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے حالیہ واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے جو حالیہ کشیدگی کے بعد سے کسی بھی ہفتے کے دوران سب سے زیادہ ہیں۔ بحری سکیورٹی کے اداروں کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قطر کے قریب سمندری حدود میں ایک تیل بردار جہاز پر متعدد پراجیکٹائلز سے حملہ کیا گیا، جس نے خطے میں جاری کشیدگی کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ تقریباً ایک ماہ میں خلیج کے اندرونی حصوں میں ہونے والا پہلا بڑا حملہ ہے، جس نے تجارتی جہاز رانی کی سلامتی پر بڑے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی نقل و حمل کے اس اہم روٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ اس بیان اور زمینی حقائق کے بعد دنیا بھر میں توانائی کے ماہرین اور اقتصادی حلقے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ تیل کی سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں اور بحری سکیورٹی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تجارتی بحری جہازوں کے لیے متبادل اور محفوظ راستوں کا بندوبست کیا جا سکے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے فوری طور پر کسی بڑے بحران کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔