Business
مشرق وسطیٰ کا بحران، خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
مشرق وسطیٰ میں حالیہ پرتشدد واقعات اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں چار سے پانچ فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈیوں کو طوفان اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے شدید سپلائی خدشات کا سامنا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں اچانک پھوٹ پڑنے والے تشدد اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خام تیل کے داموں میں چار سے پانچ فیصد تک تیزی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی رسہ کشی اور سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے توانائی کے بازار ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل کے اہم راستے متاثر ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
اس بحران کی ایک اور اہم وجہ آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہے جس نے بین الاقوامی تجارتی اور توانائی کے راستوں کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ایران اور دیگرمتحارب فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل سپلائی چین کو خطرے میں ڈال دیا ہے جبکہ دوسری طرف سمندری طوفانوں کی وجہ سے امریکی خلیجی پیداوار بھی خطرے کی زد میں ہے۔ ان تمام عوامل کے یکجا ہونے سے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں توانائی کی فراہمی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی یہ کشیدگی طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر مہنگائی اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بھی آسمان چھونے لگیں گے۔ حکومتیں اور صنعتی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا سکیں۔ آنے والے ہفتوں میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے فیصلوں اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر ہی عالمی منڈی کا دارمدار ہوگا۔