LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ چھوڑنے کے بعد شہزادہ ہیری ڈپریشن میں چلے گئے تھے

News Image
برطانیہ چھوڑ کر کمنٹس کے لیے کینیڈا جانے والے شہزادہ ہیری نے انکشاف کیا ہے کہ اس دوران وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئے تھے۔ برطانوی شاہی خاندان سے علیحدگی کے بعد انہیں شدید ذہنی دباؤ اور ایڈڈرینالین کریش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
برطانوی شاہی خاندان کے سینئر عہدے سے دستبردار ہونے والے شہزادہ ہیری نے ایک بار پھر اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ برطانیہ چھوڑنے اور کینیڈا کے وینکوور آئی لینڈ پر کچھ وقت گزارنے کے دوران وہ ڈپریشن کے عارضے میں مبتلا ہو گئے تھے۔ شہزادہ ہیری کے مطابق، اس دوران انہیں شدید ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکن کا سامنا کرنا پڑا جسے انہوں نے ایڈڈرینالین کریش قرار دیا۔ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل نے جنوری 2020 میں برطانوی شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد وہ پہلے کینیڈا اور پھر امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔ شاہی ذمہ داریوں سے اچانک علیحدگی اور میڈیا کی شدید توجہ کے باعث ان کی ذاتی زندگی میں جو طوفان برپا ہوا، اس نے ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ وینکوور آئی لینڈ پر تنہائی اور سکون کی تلاش کے دوران انہیں احساس ہوا کہ ان کا جسم اور دماغ اس اچانک تبدیلی اور تناؤ کے بوجھ کو سنبھالنے سے قاصر ہے۔ اس دوران انہیں جذباتی طور پر بھی انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ وہ اپنی پرانی زندگی، خاندان اور روایات کو پیچھے چھوڑ کر ایک بالکل نئے اور نامعلوم سفر پر گامزن تھے۔ شہزادہ ہیری کی طرف سے ان باتوں کا کھل کر اظہار کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح انہوں نے اور ان کے اہل خانہ نے اس کڑے وقت میں ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شہزادہ ہیری کے اس طرح کے انکشافات سے دنیا بھر میں عام لوگوں کو بھی ذہنی صحت کے حوالے سے کھل کر بات کرنے اور مدد حاصل کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ شاہی خاندان سے دوری کے بعد ان کی زندگی میں آنے والی یہ تبدیلیاں نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کی پوری فیملی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہوئیں، جن پر انہوں نے آہستہ آہستہ قابو پانے کی کوشش کی۔