LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں پولیس اہلکار کی جانب سے سنگین جرائم کا انکشاف

News Image
برطانیہ میں ایک پولیس اہلکار کو خاتون کے ساتھ زیادتی کے جرم میں عدالت نے قرار واقعی سزا سنائی ہے۔ واقعے کی ایک خفیہ ریکارڈنگ سے معلوم ہوا کہ متاثرہ خاتون نے حملے کے دوران تین سو سے زائد بار اسے خود سے دور رہنے کی التجا کی۔
برطانیہ میں قانون کے رکھوالے کا بھیانک روپ سامنے آیا ہے جہاں ایک پولیس اہلکار کو سنگین جرائم کے الزام میں کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے۔ تیس سالہ ریان تھیوکر نامی اس شخص نے ایک خاتون کو اپنا نشانہ بنایا اور مبینہ طور پر ایاسی اسی منٹ تک اس پر وحشیانہ تشدد اور جنسی زیادتی کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس ہولناک واقعے کی گہرائی اس وقت مزید واضح ہوئی جب یہ انکشاف ہوا کہ متاثرہ خاتون نے اپنی جان بچانے اور حملے کو رکوانے کے لیے دوران واقعہ لگ بھگ تین سو مرتبہ پولیس اہلکار سے التجا کی کہ وہ اسے چھوڑ دے اور اس سے دور ہو جائے۔متاثرہ خاتون نے اس پوری لرزہ خیز واردات کو خفیہ طور پر ریکارڈ کر لیا تھا جو بعد میں تفتیش کے دوران ایک اہم ترین شبیہ اور ثبوت کے طور پر سامنے آیا۔ یہ ریکارڈنگ نہ صرف اس سفاکانہ حملے کی تصدیق کرتی ہے بلکہ اس بات کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے کہ متاثرہ خاتون نے اپنی بقا کے لیے کتنی شدید جدوجہد کی اور مجرم نے اس کی کسی ایک التجا کو بھی خاطر میں نہیں لایا۔ اس قسم کے شواہد نے عدالتی کارروائی کو انتہائی واضح کر دیا ہے اور معاشرے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کے لیے رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں اور مستقبل میں اس قسم کے گھناؤنے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ عدالت میں اس کیس کی سماعت کے دوران جب تفصیلی حقائق اور خفیہ ریکارڈنگ کے مندرجات پیش کیے گئے تو کمرہ عدالت میں موجود افراد بھی دنگ رہ گئے۔