World
پیرس میں طلباء کا احتجاج، پولیس کا واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تعلیمی اداروں کے لیے مزید فنڈز اور اساتذہ کی فراہمی کے حق میں احتجاج کرنے والے طلباء پر پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین اپنے بنیادی تعلیمی مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکلے تھے جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی جب تعلیمی اداروں کے لیے مزید فنڈز اور اساتذہ کی کمی کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ مظاہرہ طلباء کی ایک بڑی تعداد کی جانب سے منظم کیا گیا تھا جن کا بنیادی مطالبہ ملک بھر کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانا اور اساتذہ کی خالی اسامیوں کو فوری طور پر پر کرنا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ موجودہ بجٹ میں کٹوتیوں کی وجہ سے تعلیمی نظام شدید متاثر ہو رہا ہے اور طلباء کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔
احتجاج کے دوران جب طلباء نے مقررہ راستوں پر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ حالات کو قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر پیرس پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے فائر کیے اور طاقتور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں کئی طلباء کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کچھ افراد کے معمولی زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مظاہرین نے امن عامہ کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی تھی اور ٹریفک کی روانی کو معطل کر دیا تھا جس کی وجہ سے انہیں یہ سخت قدم اٹھانا پڑا۔
واقعے کے بعد پیرس کے تعلیمی حلقوں اور طلباء یونینز کی طرف سے پولیس کی اس کارروائی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ طلباء رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ان کے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ تعلیمی شعبے کے بحران پر فوری توجہ دے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر طاقت کا استعمال حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پیرس کے اس واقعے نے ایک بار پھر فرانس میں تعلیمی اصلاحات اور فنڈنگ کے دیرینہ مسائل کو قومی سطح پر بحث کا موضوع بنا دیا ہے، اور حکام پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس بحران کا پرامن حل نکالیں۔