LIVE
Loading Breaking News...

يمن کا انسانی بحران: پچھلے پانچ ہفتوں میں دو لاکھ افراد بے گھر

News Image
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق یمن میں جاری شدید لڑائی کے نتیجے میں محض پانچ ہفتوں کے دوران دو لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے ملک میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں اور ترجمانوں نے یمن کی موجودہ صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں جاری حالیہ لڑائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی دیکھنے میں آئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق محض پانچ ہفتوں کے قلیل عرصے میں دو لاکھ سے زائد معصوم شہری اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس اچانک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی نے یمن کے پہلے سے ہی تباہ حال انسانی انفراسٹرکچر اور امدادی کارروائیوں پر بے پناہ دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یمن کئی سالوں سے تاریخ کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جہاں صحت کی سہولیات، خوراک اور صاف پانی کی قلت نے لاکھوں افراد کی زندگی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ حالیہ جھڑپوں کی وجہ سے صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے اور متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر فائر بندی اور بین الاقوامی سطح پر مالی امداد فراہم نہ کی گئی تو یہ بحران مزید خوفناک شکل اختیار کر سکتا ہے اور ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں تمام فریقین سے فوری طور پر جنگ بند کرنے اور متاثرہ علاقوں تک امداد کی بلا تعطل رسائی یقینی بنانے کی اپیل کر رہی ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سردی کے موسم اور بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے بچوں اور خواتین کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ یمن के اس سنگین بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرے اور متاثرہ آبادی کی فوری امداد کے لیے فنڈز جاری کرے تاکہ انسانی المیے کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔