LIVE
Loading Breaking News...

فلسطینی زیتون کی فصل پر اسرائیلی قبضہ اور کسانوں کی مشکلات

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی زیتون کے باغات پر قبضے اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے فلسطینی کسانوں کو اپنی صدیوں پرانی زیتون کی فصل اور زرعی روایات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی کسانوں کے لیے زیتون کی فصل کی کٹائی کا موسم خوشیوں کے بجائے شدید مشکلات اور خوف کا باعث بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی آباد کاروں نے زبردستی فلسطینی زمینوں پر اگنے والے زیتون کے درختوں سے فصل کی کٹائی شروع کر دی ہے، جس سے مقامی کسانوں کو شدید مالی نقصان اور صدمے کا سامنا ہے۔ فلسطینی کسانوں کے لیے زیتون کا درخت صرف معاش کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کی تاریخ، ثقافت اور زمین کے ساتھ گہرے تعلق کی علامت بھی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آ رہی ہے۔ اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے جاری اس عمل میں فلسطینی کسانوں کو زمینوں تک رسائی سے روکا جا رہا ہے اور کئی مقامات پر تشدد کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنا اور ان کے معاشی ذرائع کو کمزور کرنا ہے۔ کسانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ صدیوں پرانی روایات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس دوران انہیں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی مبینہ پشت پناہی حاصل آباد کاروں کی طرف سے دھمکیوں اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فلسطینی زیتون کے کاشتکاروں کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے کیونکہ زیتون کا تیل اور اس کی پیداوار فلسطینی معیشت میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ ہر سال اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں ہونے والی زیتون کی کٹائی میں پورا خاندان حصہ لیتا ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس پرامن تہوار نما ماحول کو خوف اور ناانصافی نے گھیر لیا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور فلسطینی کسانوں کے بنیادی حقوق اور ان کی زمینوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔