World
مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلی آباد کاروں کی زیتون کی فصل پر تباہ کن حملے
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی کسانوں کی زیتون کی فصل اور درختوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس عمل سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور فلسطینی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی زرعی زمینوں اور خاص طور پر زیتون کے باغات کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، یہ حملے اس وقت شدت اختیار کر جاتے ہیں جب فلسطینی کسان اپنی سال بھر کی محنت کا پھل یعنی زیتون کی فصل سمیٹنے کے لیے باغات کا رخ کرتے ہیں۔ اسرائیلی آباد کار نہ صرف قیمتی زیتون کے درختوں کو کاٹ دیتے ہیں بلکہ انہیں آگ لگا کر مکمل طور پر تباہ کر دیتے ہیں، جس سے فلسطینی کسانوں کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ زیتون کی کاشت مغربی کنارے کے ہزاروں فلسطینی خاندانوں کے لیے آمدنی کا واحد بڑا ذریعہ ہے اور اس فصل پر حملے براہ راست ان کے معاش کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں تک ایک درخت کی دیکھ بھال کرتے ہیں تاکہ وہ پھل دے سکے، لیکن چند لمحوں میں آباد کار اس تاریخی اور معاشی سرمائے کو خاکستر کر دیتے ہیں۔ دوسری جانب، مقامی آبادی اور بین الاقوامی مانیٹرنگ گروپس کا یہ بھی الزام ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز اکثر اس طرح کے واقعات میں خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں یا بعض صورتوں میں وہ خود آباد کاروں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں، جس کی وجہ سے مجرموں کے حوصلے بلند ہیں۔ اس صورتحال نے مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے اور امن کی تمام کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فلسطینی کسانوں کے بنیادی حقوق اور ان کی املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، بصورت دیگر یہ زرعی تنازع مزید بڑے انسانی اور سیاسی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔