LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں کاکروچ تحریک کا احتجاج، ارکان گرفتار اور استعفیٰ کا مطالبہ

News Image
بھارت میں اپوزیشن اور طلبہ کی زیر قیادت کاکروچ تحریک کے ارکان کو احتجاج جاری رکھنے پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ہفتے کے روز ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔
بھارت میں سیاسی ہلچل اس وقت مزید تیز ہو گئی جب اپوزیشن اور طلبہ کی زیر قیادت چلنے والی 'کاکروچ' تحریک (CJP) کے اراکین کو پولیس نے احتجاجی مظاہروں کے دوران حراست میں لے لیا۔ یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب ملک بھر میں حکومتی پالیسیوں اور انتخابی نظام کے خلاف آوازیں بلند کی جا رہی ہیں اور مظاہرین اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ تحریک کے رہنماؤں اور شرکاء کا ماننا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ اس احتجاج کا بنیادی محور چیف الیکشن کمشنر کا فوری استعفیٰ ہے، جسے تحریک کے ارکان نے اپنے مطالبات کی فہرست میں سرفہرست رکھا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کی موجودہ قیادت شفاف انتخابات کے انعقاد اور اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہی ہے، جس کے بعد اب ان کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں بچا۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ اور مختلف سیاسی جماعتیں اب سڑکوں پر آ کر شدید نعرے بازی کر رہی ہیں اور حکومت پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے ان مظاہروں اور گرفتاریوں پر توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے بہانے مظاہرین کو حراست میں لینا شروع کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے باوجود تحریک کے رہنماؤں کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کاکروچ تحریک اور اتحادی اپوزیشن جماعتوں نے ہفتے کے روز ملک بھر میں ایک بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس معاملے پر لچک کا مظاہرہ نہ کیا اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار نہ کیا، تو آنے والے دنوں میں بھارت کی سیاسی فضا میں کشیدگی میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔