World
غزہ کے ڈرامہ نگار علی ابو یاسین نے انگلش پین ایوارڈ جیت لیا
غزہ کے معروف ڈرامہ نگار علی ابو یاسین نے جنگ کے تباہ کن حالات میں بھی فنکارانہ استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معتبر انگلش پین ایوارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز ملبے کے ڈھیروں کے درمیان بھی تھیٹر کے لیے مسلسل لکھنے اور تخلیقی عمل جاری رکھنے پر دیا گیا ہے۔
غزہ کے نامور اور باصلاحیت ڈرامہ نگار علی ابو یاسین نے انتہائی کٹھن حالات، جنگ اور تباہی کے درمیان اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے باوقار انگلش پین ایوارڈ جیت لیا ہے۔ جنگی طوفان اور چاروں طرف پھیلی ہوئی ویرانی کے باوجود انہوں نے اپنے قلم کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ملبے کے ڈھیروں کے درمیان بیٹھ کر تھیٹر کے لیے مسلسل لکھتے رہے۔ ان کی اس بے مثال استقامت اور عزم کو بین الاقوامی سطح پر بے حد سراہا گیا ہے۔
اس ایوارڈ کا مقصد ان تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو انتہائی نامساعد حالات، سنسرشپ یا جنگی تنازعات کا شکار خطوں میں رہتے ہوئے بھی سچائی اور فن کی ترویج کے لیے جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ علی ابو یاسین کا یہ کہنا کہ جنگ اب ان کے اندر بستی ہے، اس بات کا غماز ہے کہ کس طرح ایک فنکار کے دل و دماغ پر جنگ کے نقوش گہرے ہوتے ہیں اور وہ انہی زخموں کو اپنی تخلیقات کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
غزہ کے ثقافتی حلقوں میں علی ابو یاسین کی اس کامیابی پر زبردست خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ مقامی فنکاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک شخص کا اعزاز نہیں ہے بلکہ یہ اس پورے خطے کے فن اور ثقافت کی فتح ہے جو تمام تر مشکلات کے باوجود زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ اس عالمی پذیرائی کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ غزہ کے دیگر فنکاروں کی آواز بھی دنیا کے ایوانوں تک زیادہ مؤثر طریقے سے پہنچ سکے گی۔