LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور بحرین کی دوطرفہ شراکت داری: تجارت اور سکیورٹی تعاون

News Image
مختلف شعبوں میں پاکستان اور بحرین کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس دوطرفہ شراکت داری کو تجارت، توانائی اور سکیورٹی کے شعبوں میں انتہائی سودمند قرار دیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) پاکستان اور بحرین کے درمیان تجارتی، معاشی، توانائی اور سکیورٹی کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی شراکت داری کو سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں نے انتہائی سراہا ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں برادر ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ملک دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے خواہاں ہیں۔ اس تناظر میں بحرین کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت نے بحرینی وفد سے ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں اشتراک کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں کا اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ پاکستان اور بحرین کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو اب مضبوط معاشی شراکت داری میں بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک نوعیت کے یہ رابطے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے مفید ہیں بلکہ خطے میں استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔ دوسری جانب بحرین نے پاکستان اور جی سی سی کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے (فری ٹریڈ پیکٹ) کی جلد منظوری کے لیے کوششیں تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ اقدام دونوں خطوں کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانے اور کاروباری برادری کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ جی سی سی ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے سے پاکستان کی برآمدات کو فروغ ملے گا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ دفاعی اور سکیورٹی کے شعبوں میں بھی پاکستان اور بحرین کے مابین تعاون میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک خطے میں درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دفاعی اداروں کے درمیان باضابطہ اشتراک اور وفود کے تبادلے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے عسکری تعلقات بھی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ مجموعی طور پر، پاکستان اور بحرین کی کثیر الجہتی شراکت داری خطے کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل منظر نامے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جو دونوںممالک کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نئے دروازے وا کرے گی۔