LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا نومبر کے انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا وعدہ

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔ اس حوالے سے عالمی میڈیا میں رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں مثبت بات چیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
امریکی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر کسی قسم کا حملہ نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور جنگ کے خدشات پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا، اور مختلف میڈیا رپورٹس میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا تھا کہ واشنگٹن تہران کے خلاف کیا لائحہ عمل اختیار کرے گا۔ برطانوی اخبار دی گارڈین اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے یہ پالیسی بیان ان رپورٹس کے ردعمل میں آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ واشنگٹن انتخابات سے قبل ایران کو نشانہ بنانے کے کسی منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم اب یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ فی الحال فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور الجزیرہ کے مطابق، اس صورتحال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پردے کے پیچھے یا سفارتی سطح پر بعض موضوعات پر مثبت بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کا مقصد خطے میں مزید کشیدگی کو روکنا اور استحکام پیدا کرنا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی نوعیت کا حامل ہے تاکہ ملکی سطح پر انتخابی مہم کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے اور معاشی و سلامتی کے محاذ پر ووٹرز کو ایک مستحکم پیغام دیا جا سکے۔ دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انتخابات سے قبل حملے کا خطرہ ٹلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور جامع مذاکرات کی ضرورت بدستور برقرار ہے تاکہ خطے کے عوام کو کسی بھی ممکنہ جنگ یا بدامنی سے محفوظ رکھا جا سکے۔