LIVE
Loading Breaking News...

بیرسٹر گوہر کی درمیانی راستہ اپنانے کی اپیل، پی ٹی آئی مارچ جاری

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پانچویں روز چیئرمین بیرسٹر گوہر نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالیں۔ دوسری جانب حکومتی وزراء نے واضح کیا ہے کہ اپوزیشن دباؤ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی مجبور نہیں کر سکتی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا احتجاجی لانگ مارچ اپنے پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور اس دوران سیاسی کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ انتہائی مؤقف سے گریز کرتے ہوئے ایک درمیانی راستہ اختیار کریں تاکہ جاری سیاسی بحران کا کوئی پرامن حل نکالا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک مزید محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جانے چاہئیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت اور حکومتی اتحادیوں کی طرف سے اس احتجاج پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر حکومتی عہدیداروں نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور سڑکوں پر دھرنوں اور احتجاج کے ذریعے ریاست کو دباؤ میں لانے کی کوشش ترک کر دیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تو تیار ہے لیکن کسی بھی جماعت کو بلیک میلنگ یا دھونس کے ذریعے ناجائز مطالبات منوانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں اطراف سے سخت بیانات کے باوجود پس پردہ رابطوں کی گنجائش موجود ہے، تاہم اعتماد کا فقدان سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ حکومت کا اصرار ہے کہ تحریک انصاف کو آئینی و قانونی دائرے میں رہ کر بات کرنی چاہیے جبکہ پی ٹی آئی اپنے احتجاج کو جمہوری حق قرار دے رہی ہے۔ پانچویں روز بھی ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی ہلچل جاری ہے اور عوام کی نظریں اس کشمکش کے ممکنہ انجام پر مرکوز ہیں۔