LIVE
Loading Breaking News...

پاک فوج کے سربراہ کا سعودی عرب میں مزید فوجی اثاثے تعینات کرنے کا فیصلہ

News Image
پاک فوج کے سربراہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو بائی پاس کرتے ہوئے سعودی عرب میں مزید فوجی اثاثے تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اس اہم عسکری اقدام میں ملک کی پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس سے سیاسی اور عسکری تعلقات پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے ایک اہم اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ملک کے وزیراعظم شہباز شریف کو مبینہ طور پر بائی پاس کر دیا ہے اور سعودی عرب میں مزید فوجی اثاثے اور اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اسٹریٹجک اقدام کے دوران روایتی پارلیمانی طریقہ کار کو پس پشت ڈالا گیا اور ملک کی پارلیمنٹ کو اس عسکری فیصلے میں بالکل شامل نہیں کیا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ دفاعی تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس پیشرفت کے بعد اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر اس نوعیت کے بڑے فیصلے کرنا ماضی میں بھی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ترکیہ سمیت دیگر ممالک بھی سعودی عرب کی دفاعی معاونت اور خطے میں سیکیورٹی کے نئے معاہدوں پر غور کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور باہمی تعاون کے معاہدوں کے تحت یہ فوجی تعیناتیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں تاکہ مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم اس سارے معاملے پر وزیراعظم ہاؤس اور عسکری قیادت کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلی رسمی بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن پارلیمنٹ کو نظرانداز کیے جانے پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کڑی تنقید کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان کے خارجہ اور دفاعی امور میں عسکری فیصلہ سازی کو کتنی اہمیت حاصل ہے اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں ریاستی ترجیحات کس نہج پر گامزن ہیں۔