World
روسی صدر پوتن کی ایران کے لیے حمایت اور جنگ کے خاتمے کی پیشکش
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ترکمانستان میں ایرانی صدر سے ملاقات کے دوران تہران کے لیے مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے خلاف جاری امریکی قیادت والی کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ماسکو کی جانب سے مکمل حمایت اور تعاون کا اعلان کیا ہے۔ یہ اہم پیشرفت ترکمانستان میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی، جہاں دونوں ممالک کے صدور نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے نئے تجاویز کے تبادلے کا بھی ذکر کیا گیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روسی ہم منصب کو موجودہ سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مختلف آپشنز پر بات کی۔ اس موقع پر روسی صدر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ماسکو خطے میں امن و استحکام کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق روس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن سفارتی اور عملی مدد فراہم کرے گا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی طاقتیں اس تنازع کو حل کرنے کے لیے متحرک ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ شراکت داری خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس تعاون سے نہ صرف تہران کو سفارتی محاذ پر ریلیف ملے گا بلکہ خطے میں ایک نیا توازن بھی قائم ہو سکتا ہے جس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔