LIVE
Loading Breaking News...

وائٹ ہاؤس کا مائیکروسافٹ سمیت آئی ٹی کمپنیوں کے خلاف بڑا اقدام

News Image
امریکی انتظامیہ نے مبینہ فراڈ کے الزامات کے تحت مائیکروسافٹ اور دیگر بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے گرین کارڈز کی درخواستیں معطل کر دی ہیں۔ یہ اقدام غیر ملکی ورکرز کے پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں اٹھایا گیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی وائٹ ہاؤس اور انتظامیہ نے ٹیک انڈسٹری کے خلاف ایک سخت اقدام اٹھاتے ہوئے مائیکروسافٹ سمیت کئی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کو غیر ملکی ورکرز کی ہائرنگ کے متنازعہ پروگرام سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ مبینہ فراڈ اور امیگریشن قوانین میں خامیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس کے تحت ان کمپنیوں کی گرین کارڈز کی درخواستوں کو منجمد کر دیا گیا ہے۔ اس کارروائی سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہلچل مچ گئی ہے اور دنیا بھر سے امریکہ جانے والے ماہرینِ تعلیم اور پروفیشنلز کے لیے نئی مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکومت نے مائیکروسافٹ کے علاوہ ایڈوب اور انفوسس جیسی نامور کمپنیوں کو بھی اس تحقیقات کی زد میں لے لیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ قدم غیر ملکی ورکرز کے لیے مخصوص لیبر سرٹیفکیٹ اور گرین کارڈ کے عمل میں مبینہ طور پر ضابطوں کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا غلط استعمال کیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے تھے۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی سیکٹر سے وابستہ اداروں اور کمپنیوں نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے نہ صرف امریکی ٹیک کمپنیوں کی عالمی سطح پر ٹیلنٹ ہائر کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی بلکہ پہلے سے زیر التواء ہزاروں ویزا درخواستیں بھی خطرے میں پڑ جائیں گی۔ مائیکروسافٹ اور دیگر متاثرہ کمپنیوں نے فی الحال اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہے تاہم وہ قانونی ماہرین سے مشورہ کر رہی ہیں تاکہ اس بحران سے نمٹا جا سکے۔ امریکہ میں غیر ملکی ورکرز کے پروگرام پر اس تازہ ترین کریک ڈاؤن نے مستقبل کی امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے امریکی معیشت اور خاص طور پر سلیکن ویلی کو مطلوبہ ماہرین کی فراہمی میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تحقیقات کے نتائج کیا ہوں گے، اس کا دارالحمد حکومت کی جانب سے قائم کردہ کمیٹیوں کی رپورٹ پر ہوگا جو اس پورے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔