LIVE
Loading Breaking News...

اے ڈی ایچ ڈی اور آٹزم کی تشخیص میں زیادتی کا خطرہ

News Image
ایک نئے سرکاری جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ نوجوانوں میں اے ڈی ایچ ڈی اور آٹزم کے بڑھتے ہوئے کیسز کے دوران یہ خطرہ موجود ہے کہ معاشرہ کم تشخیص کے دور سے نکل کر ضرورت سے زیادہ تشخیص کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال سے طبی ماہرین اور متعلقہ اداروں کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
نوجوانوں میں ذہنی صحت اور اعصابی عوارض سے متعلق ایک اہم سرکاری جائزے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اے ڈی ایچ ڈی (ADHD) اور آٹزم جیسے مسائل کی ضرورت سے زیادہ تشخیص کا شدید خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی میں جہاں ان مسائل کی تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو مناسب علاج اور توجہ نہیں مل پاتی تھی، وہیں اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور معاشرہ کم تشخیص کے دور سے نکل کر ممکنہ طور پر ضرورت سے زیادہ تشخیص کے رجحان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جائزے کا بنیادی ہدف کم عمر افراد ہیں، جن میں رویے سے متعلق مسائل کو اکثر جلدی میں اے ڈی ایچ ڈی یا آٹزم کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اس رجحان کے نتیجے میں عام بچگانہ رویوں یا تعلیمی دباؤ کو بھی طبی عوارض سے جوڑنے کا خدشہ ہے، جس سے نہ صرف صحت کے نظام پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے بلکہ متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سرکاری رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ طبی عملے اور ماہرینِ نفسیات کو اس حوالے سے انتہائی محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ تشخیص کا عمل انتہائی باریک بین ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی غلط یا جلد بازی میں کیے گئے فیصلے سے بچا جا سکے۔ ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مریضوں کا معائنہ کرتے وقت تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیں تاکہ صحیح اور مستند طبی امداد فراہم کی جا سکے۔