LIVE
Loading Breaking News...

موناکو بم حملہ: مشتبہ شخص وٹالی ژائکوویچ کا بی بی سی کو انٹرویو

News Image
یوکرین نژاد تاجر وادیم یرمولاییف پر موناکو میں ہونے والے قاتلانہ حملے سے منسلک ایک مشتبہ شخص نے پہلی بار بی بی سی کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ وٹالی ژائکوویچ نے اس مبینہ حملے کے حوالے سے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے تفصیلات بتائی ہیں۔
موناکو میں یوکرین نژاد کروڑ پتی تاجر وادیم یرمولاییف پر ہونے والے بم حملے کے مبینہ طور پر جڑے ایک مشتبہ شخص نے طویل خاموشی کے بعد بالآخر بی بی سی کے سامنے اپنی زبان کھولی ہے۔ اس سنسنی خیز معاملے نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کی ہے جہاں ملزم نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے حقائق سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں وٹالی ژائکوویچ نے اس پورے واقعے میں اپنے کردار کے بارے میں کھل کر بات کی اور اس بات کی کوشش کی کہ وہ اپنے مؤقف کو دنیا کے سامنے رکھ سکیں۔ وادیم یرمولاییف جو کہ ایک معروف یوکرینی تاجر ہیں، ان پر موناکو کی پرتعیش فضا میں اس خطرناک حملے کی کوشش کی گئی تھی جس نے سکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس حملے کی تحقیقات کے دوران متعدد نام سامنے آئے جن میں وٹالی ژائکوویچ کا نام بھی نمایاں طور پر لیا جا رہا تھا۔ پولیس اور تفتیشی ادارے اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس قاتلانہ حملے کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے اور اس میں کون کون سے افراد براہ راست ملوث تھے۔ وٹالی ژائکوویچ کی جانب سے بی بی سی کو دیے گئے اس بیان کے بعد اس پیچیدہ کیس میں نئے موڑ آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین اور تفتیشی ٹیمیں اس انٹرویو کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس سے تفتیش کو آگے بڑھانے میں کوئی نئی مدد مل سکتی ہے یا نہیں۔ یہ واقعہ یورپی ممالک میں مقیم دولت مند افراد کی سکیورٹی اور ان کے درمیان ہونے والے مالیاتی یا ذاتی تنازعات پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مقدمے کی سماعت اور مزید تفتیش کے دوران اس انٹرویو کے اہم اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ متاثرہ فریق اور مبینہ ملزم دونوں ہی اس معاملے میں اپنی اپنی پوزیشن واضح کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔