LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک میں آئی سی ای کی فائرنگ، مئیر کا شدید ردعمل

News Image
نیویارک میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق آئی سی ای کے ایک آپریشن کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص کو نشانہ بنایا گیا۔ نیویارک کے مئیر نے اس واقعے کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کے شہر نیویارک سٹی میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک اہلکار کی طرف سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس نے مقامی انتظامیہ اور وفاقی حکام کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ اس واقعے نے ملک بھر میں ایک بار پھر غیر قانونی تارکینِ وطن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات پر نئی بحث چھڑ دی ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایک ایسے مجرم کے خلاف کی جا رہی تھی جو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم تھا اور قانون کو مطلوب تھا۔ فائرنگ کے اس واقعے کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے اور مختلف حلقوں کی طرف سے اس پر تند و تیز ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب نیویارک کے مئیر نے اس واقعے پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بالکل ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔ مئیر کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مقامی شہریوں کے تحفظ کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور وفاقی اداروں کو شہر کے اندر کارروائی کرتے وقت مقامی قوانین اور حساسیت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور معلوم ہو سکے کہ فائرنگ کرنے کی نوبت کیوں پیش آئی۔ وفاقی اداروں اور مقامی میونسپل حکومت کے درمیان اس محاذ آرائی نے ایک بار پھر اس دیرینہ بحث کو ہوا دی ہے کہ بڑے شہروں میں وفاقی امیگریشن حکام کے اختیارات کی حدود کیا ہونی چاہئیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور دیگر وفاقی اداروں کی طرف سے طاقت کے استعمال پر کڑی نظر رکھی جائے۔ آنے والے دنوں میں اس واقعے کے سیاسی اور قانونی اثرات مرتب ہونے کا قوی امکان ہے، کیونکہ تارکینِ وطن کے حقوق کے حامی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آمنے سامنے آ چکے ہیں۔