LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کا موسم: ایل نینو اور قطبی ورٹیکس کا سردیوں پر اثر

News Image
موسمیاتی ماہرین کے مطابق اس سال کے اواخر میں بننے والا ایل نینو برطانوی موسم پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم سرد اور برفباری بھرے موسم کی مکمل ضمانت ابھی نہیں دی جا سکتی۔
حالیہ موسمیاتی تجزیوں کے مطابق، دنیا بھر میں موسم کے بدلتے ہوئے رجحانات نے ایک بار پھر ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا آنے والے موسمِ سرما میں برطانیہ کو شدید سردی اور برفباری کا سامنا کرنا پڑے گا یا نہیں۔ اس سلسلے میں موسمیاتی تغیرات بالخصوص ایل نینو کے اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ برطانوی شہریوں کو آنے والے مہینوں کی صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سمندری درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیاں بالآخر دنیا کے مختلف خطوں کے فضائی دباؤ کو متاثر کرتی ہیں، جس سے موسم کا رخ بدل سکتا ہے۔ ترقی پذیر ایل نینو برطانوی موسم کے امکانات کو اس خزاں اور سرما کے دوران خاصی حد تک متاثر کر سکتا ہے، تاہم سرد اور برفانی حالات کی آمد ابھی تک قطعی طور پر یقینی نہیں کہی جا سکتی۔ موسمیاتی نظام پیچیدہ ہوتے ہیں اور کئی عوامل بیک وقت اثر انداز ہوتے ہیں۔ دوسری طرف، قطبی ورٹیکس کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ یہ شمالی قطب کے اردگرد سرد ہواؤں کے طوفان کو قابو میں رکھتا ہے۔ اگر قطبی ورٹیکس کمزور پڑ جائے تو شدید سردی اور برفباری کے طوفان یورپ اور برطانیہ کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم، موسم کی اس پیشگوئی کے لیے مزید اعداد و شمار اور طویل مدتی ماڈلز کا انتظار کرنا ہوگا۔ برطانوی محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے ہفتوں میں موسم کی مزید واضح تصویر سامنے آ جائے گی۔ تب تک شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ موسم کی بدلتی ہوئی صورتحال سے باخبر رہیں اور روایتی سردیوں کی تیاریوں کے لیے محتاط رہیں۔