World
خواتین اور غصے کا اظہار: سماجی رویوں میں تبدیلی کی کہانی
حالیہ مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین میں غصے کا رجحان بڑھ رہا ہے یا پھر اب وہ اس کا اظہار زیادہ کھل کر کرنے لگی ہیں۔ سماجی رویوں میں تبدیلی اور دقیانوسی تصورات کے خاتمے کے ساتھ ہی خواتین اپنے جذبات کو چھپانے سے گریزاں ہیں۔
موجودہ دور میں خواتین کے حوالے سے یہ بحث شدت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ آیا وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ غصے کا شکار ہیں یا پھر اب وہ اپنے جذبات کو چھپانے کے بجائے کھل کر سامنے لانے لگی ہیں۔ روایتی طور پر معاشرے کی طرف سے خواتین کو یہ درس دیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے غصے اور جذبات پر قابو رکھیں اور نرمی کا مظاہرہ کریں۔ تاہم، جدید تحقیقات اور سماجی جائزوں سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ خواتین اب ان روایتی بندشوں اور دقیانوسی تصورات کو توڑ رہی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں بلکہ ناانصافی کے خلاف اپنے غصے کا برملا اظہار بھی کر رہی ہیں۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ غصہ ایک فطری انسانی جذبہ ہے جسے طویل عرصے تک صنف کی بنیاد پر دبایا جاتا رہا ہے۔ تاریخ میں خواتین کو اکثر پرسکون اور برداشت کرنے والی ہستی کے طور پر پیش کیا گیا، جس کی وجہ سے ان کے جائز غصے کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ آج کی دور جدید کی عورت اس دوہرے معیار کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔ جب کام کی جگہ پر، گھر میں یا معاشرے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے، تو وہ اب خاموش رہنے کے بجائے اس پر فوری اور واضح ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔
اس رجحان کے پیچھے سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر چلنے والی تحریکوں کا بھی اہم کردار ہے، جنہوں نے خواتین کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ اپنے جذبات کا اظہار بلا جھجھک کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ غصے کا اظہار ہمیشہ منفی نہیں ہوتا بلکہ یہ بعض اوقات اصلاح اور تبدیلی کا سب سے بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جب خواتین اپنے غصے کو مثبت سمت میں موڑتی ہیں اور تبدیلی کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، تو اس سے معاشرتی ڈھانچے میں بھی مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
اس پوری صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ خواتین میں غصے میں اضافہ دراصل ان کی ذہنی بیداری اور خود اعتمادی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ اب معاشرتی دباؤ کے تحت اپنی شخصیت کی نفی کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ یہ تبدیلی آنے والے وقتوں میں صنفی مساوات اور سماجی انصاف کے قیام میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، جہاں ہر فرد کو اپنے جذبات کا آزادانہ اظہار کرنے کا حق حاصل ہو۔