World
اقوام متحدہ دارفور ہتھیاروں کی پابندی سوڈان بحران
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دارفور میں ہتھیاروں کی پابندی میں توسیع کر دی ہے جبکہ روس اور چین نے سوڈان کے دیگر حصوں تک پابندیوں کو پھیلانے کی امریکی تجویز کو مسترد کر دیا۔ یہ فیصلہ ملک میں جاری شدید خانہ جنگی اور سکیورٹی بحران کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سوڈان کے علاقے دارفور کے لیے عائد ہتھیاروں کی پابندی میں باضابطہ طور پر توسیع کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان شدید مسلح تصادم جاری ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ سلامتی کونسل کا یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور جنگجو گروہوں کو مزید اسلحہ کی فراہمی روکنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم اس قرارداد پر بحث کے دوران عالمی طاقتوں کے درمیان سخت اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے۔ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ دارفور تک محدود اس ہتھیاروں کی پابندی کو وسعت دے کر پورے سوڈان تک لاگو کیا جائے۔ امریکی سفارتی حکام کا مؤقف تھا کہ سوڈان کے دیگر حصوں میں بھی جاری لڑائی کو روکنے کے لیے ملک بھر میں اسلحے کی ترسیل پر پابندی لگانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاہم اس امریکی تجویز پر سلامتی کونسل میں اتفاق رائے نہ ہو سکا اور روس اور چین نے اس وسیع تر پابندی کی تجویز کو ویٹو کرتے ہوئے بلاک کر دیا۔ روسی اور چینی نمائندگان کا کہنا تھا کہ سوڈان کے موجودہ حالات میں اس طرح کی وسیع پابندیاں امن عمل میں مددگار ثابت ہونے کے بجائے زمینی حقائق کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ اس سفارتی ڈیڈ لاک کے بعد اب صرف دارفور کے مخصوص خطے کے لیے ہی ہتھیاروں کی پابندی نافذ العمل رہے گی جبکہ سوڈان کے باقی حصوں کے حوالے سے کشمکش تاحال برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں اس طرح کے اختلافات سوڈان کے بحران کے پرامن حل کے لیے عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں کو متاثر کر رہے ہیں، کیونکہ ملک میں انسانی بحران دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔