LIVE
Loading Breaking News...

غزہ فضائی حملہ الصبرہ محلہ معصوم بچے شہید

News Image
غزہ کے علاقے الصبرہ میں ہونے والے ایک فضائی حملے نے معصوم بچوں سمیت کئی افراد کی جان لے لی ہے۔ اس ہولناک حملے کے بعد ایک غم زدہ باپ کا درد پوری دنیا کے سامنے آگیا ہے۔
فلسطین کے محاصرہ زدہ علاقے غزہ میں اسرائیلی بمباری کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اس کے نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر معصوم شہریوں بالخصوص بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں غزہ شہر کے گھنے آباد الصبرہ محلے میں واقع ایک رہائشی عمارت کو اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں شدید تباہی پھیل گئی اور امدادی ٹیموں کو ملبے سے لاشیں نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد ایک غم زدہ باپ کا روپ پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے، جس نے اپنے پیاروں کو اچانک اس طرح کھو دینے کے بعد شدید صدمے اور دکھ کی حالت میں دنیا سے انصاف کی اپیل کی ہے۔ مقامی اسپارٹلز اور ذرائع ابلاغ کے مطابق، حملے کی زد میں آنے والی عمارت عام شہریوں کا مسکن تھی اور اس میں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی کا کوئی وجود نہیں تھا۔ حملے کے وقت عمارت کے اندر کئی خاندان موجود تھے جو اس اچانک اور اندھا دھند بمباری سے بچ نہ سکے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ قریبی عمارتیں بھی لرز اٹھیں اور فضا میں دھوئیں کے سیاہ بادل چھا گئے۔ حملے کے فوری بعد محلے کے مکینوں اور ریسکیو اہلکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کی، تاہم بہت سے معصوم بچے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے۔ اس واقعے نے غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جبکہ عالمی برادری کی خاموشی پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ جنگ زدہ علاقے کے باسیوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر روز اپنوں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہیں اور دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے تحت فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید معصوم جانوں کو بچایا جا سکے، لیکن زمینی حقائق اب بھی انتہائی تاریک اور خوفناک بنے ہوئے ہیں۔