LIVE
Loading Breaking News...

ایپل کا سکیورٹی بگ رپورٹنگ سسٹم سخت، اے آئی رپورٹس پر کیپس عائد

News Image
ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ایپل کو اے آئی کے ذریعے تیار کردہ سکیورٹی رپورٹس کی بھرمار کا سامنا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کمپنی نے بگ رپورٹنگ کے نظام کو مزید سخت کر دیا ہے۔
امریکہ کی معروف ٹیک کمپنی ایپل نے اپنی سکیورٹی رپورٹس کے نظام میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ بگ رپورٹس پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، حالیہ دنوں میں ایپل کی سکیورٹی ٹیموں کو اے آئی کے خودکار سسٹمز کے ذریعے بھیجے جانے والے مسائل اور سکیورٹی سوراخوں کی اس قدر بھرمار کا سامنا کرنا پڑا کہ اصل اور اہم مسائل کو تلاش کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس صورتحال کے پیش نظر کمپنی نے بگ باؤنٹی اور رپورٹنگ کے عمل کو مزید محدود اور منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، جنریٹو اے آئی اور مختلف آٹومیشن ٹولز کی آسان دستیابی کی وجہ سے کوئی بھی فرد اب بڑی تعداد میں ممکنہ سکیورٹی خامیاں تلاش کر کے سکیورٹی ٹیموں کو بھیج سکتا ہے۔ تاہم، ان میں سے بیشتر رپورٹس یا تو فرضی ہوتی ہیں یا ان میں کوئی حقیقی تکنیکی کمزوری موجود نہیں ہوتی۔ ایپل کے سکیورٹی ماہرین اس بات پر پریشان تھے کہ اے آئی کے اس سیلاب کی وجہ سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور وہ ان حقیقی خطرات پر توجہ نہیں دے پا رہے جو کمپنی کے صارفین کے لیے واقعی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ نئے ضوابط کے تحت، ایپل نے اب سکیورٹی رپورٹس کی وصولی کے معیار کو بلند کر دیا ہے اور ایسے تمام خودکار سسٹمز پر قدغن لگائی جا رہی ہے جو بغیر تصدیق کے بڑی تعداد میں رپورٹس جمع کرواتے ہیں۔ کمپنی کا یہ اقدام نہ صرف اس کی سکیورٹی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ جو محققین سنجیدگی سے حقیقی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں، ان کی آواز اور رپورٹس پر فوری توجہ دی جا سکے گی۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی بڑی کمپنی کو اے آئی کے اس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ دیگر بڑی کمپنیاں بھی اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے اس منفی استعمال کو روکا جائے جو سکیورٹی کے شعبے میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔ ایپل کی جانب سے اٹھائے گئے ان اقدامات کو سکیورٹی انڈسٹری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں اس طرح کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔